Sunday, October 5, 2025

Managers, Please don’t Blame Company or Money for Losing Top Talent (Urdu Article)

 


جب بہترین ٹیلنٹ چھوڑ جائے تو  کمپنی اور پیسے کو الزام نہ دیں!

کیا لوگ نوکری چھوڑ تے  ہیں، یا  اپنے سپروائزر /'بوُس 'کو؟  اس سوال کو نظرانداز کرنا کسی بھی ادارے  کی افرادی قوت کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔  ملک بھر   میں فیملی تکافل کی صنعت میں باصلاحیت سیلز ایجنٹس کا روٹھ کر  جانا  تمام تکافل اداروں کیلئے مالی اور آپریشنل دونوں لحاظ سے مہنگا  سودا  ہو تا  ہے۔ اس سر درد میں نہ صرف بھرتی، آن بورڈنگ اور تربیتی اخراجات شامل ہیں، بلکہ ادارے سے وابستگی کے دوران حاصل ہونے والے عملی تجربے  کی سیکھ کا نقصان بھی ہے جو رخصت ہونے والے قابل  ایجنٹ یا مینجر  کے ساتھ چلا جاتا ہے۔  مالیاتی خدمات/ فننانشل ایڈوائزری  کے ہوشیار لیڈرز اپنے بہترین کارکنوں کو  اپنی ٹیم اور ادارے کے ساتھ برقرار رکھنے کے لیے فعال اقدامات کرتے ہیں۔

نوکریوں کی تلاش  کی  دو اہم ویب سا ئٹ'  گلاس ڈور اور لنکڈان'  کی تحقیق کے مطابق،  نوکریاں چھوڑنے والے لوگوں کے۳۴ ملین آن لائن پروفائلز کے  جائزے میں ، لوگوں کے جانے کی بنیادی وجہ اپنے سپروائزر کے ساتھ رابطے کی کمی  کو قرار دیا گیا تھا ۔ پیسہ کافی پیچھے،  (۱۶)سولہویں نمبر پر تھا۔ واضح الفاظ میں، زیادہ تر لوگ کمپنی کی وجہ سے  کام نہیں چھوڑتے؛ وہ اپنے سپروائزر  کی  ناقص رہنمائی اور مدد  کی وجہ سے کام چھوڑنے  پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

لاہور میں مقیم میرے ایک ریجنل مینیجر  ٹریننگ اینڈ  ڈیویلپمنٹ   نے بھی  ایک سروے  کیا، جس سے بہت اہم  نکات اُجاگر ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ دس میں سے سات ملازمین مالیاتی ترقی، کیرئر  کی ترقی اور کاروباری  پیش رفت کی توقعات کا اظہار کرتے  ہیں — وہ ابتدائی ایک دو ماہ  میں  فعال طور پر کہیں اور جانے کی تلاش میں نہیں ہوتے  ہیں۔ وہ دراصل یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جو وہ کر رہے ہیں، اس کا مقصد اور معنی  اُن کی شخصیت اور کام کی قدر میں   اضافے کا باعث ہو۔  دورانِ  ملازمت ایک سیلز ٹیم ممبر کا  اطمینان، عام طور پر چار چیزوں پر مبنی ہوتا  ہے: ترقی کا موقع، منصفانہ معاوضہ، ٹولز اور وسائل، اور خودمختاری۔ ملازمین کے چھوڑنے کی وجوہات پر تازہ ترین ڈیٹا لاہور یا پنجاب سمیت پورے ملک  کی دیگر برانچوں کے فیملی تکافل لیڈروں کو نئی راہِ عمل دے سکتا ہے۔

اس ایجنٹ ریٹینشن کیلئے ، کسی بھی لیڈر کا   پہلا قدم ریکروٹمنٹ کے وقت یہ نوٹ کرنا ہے کہ ریٹیل سیلز ایجنٹ یا  مینیجرز اپنے کیرئر  یا  دراصل اپنی ملازمتوں سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔ اس ریکارڈ کی بدولت ٹیم ممبران کی  کیرئر کی ترقی کے مراحل بھی  مدِ نظر رکھے جاتے ہیں بلکہ جب وہ اپنے وقتِ رخصت کا اعلان کریں تو  'رخصتی انٹرویو أ Exit Interview'  جو کہ لیڈر کے علاوہ  کسی اور سینئر  کی زیر ِ نگرانی ہو ،  اس میں یہ دیکھا جانا چاہیئے کہ جانے والے کے چھوڑنے کے پیچھے توقعات کے پورا ہونے نہ ہونے کے  علاوہ اور کون کون سے  مسائل کارفرما تھے، جن کے باعث چھوڑنے کا انتخاب کیا جار ہا ہوتا ہے۔ یہ عمل بہت سےقابل افراد  اور وسائل کے ضیاع سے بچا سکتا ہے۔

برانچ  کے مثبت ماحول  کیلئے تجاویز

مارچ  ۲۰۲۰   کے آخر میں کرونا کی وبأ کے باعث لاک ڈاؤن سے پاکستانی معیشت عالمی معیشت کی نسبت  کم متاثر ہوئی۔ البتہ  اُس وُبا کے بعد،   اداروں کے کام کے ماحول اور لوگوں  کے مزاج اور  ورک پلیس انگیجمنٹ کے روئیے  خاصے متاثر ہوئے۔  بلخصوص، نئی نسل  'جنریشن زی' کے موڈ پر خاصی بحث ہورہی ہے۔ ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس  کی آمد،  وائٹ کالر  جاب مارکیٹ پر اے-آئی کے اثرات  کو سوچتے ہوئے، مالیاتی ترقی، کیرئر  کی ترقی اور کاروباری  پیش رفت  پر خدشات نے  افرادی قوت کو   الجھنوں کا شکار کیا ہے۔  ایسے ماحول میں لیڈرز نئے ٹیلنٹ کو راغب کرنے اور نئے ملازمین کو تربیت دینے کی حکمت عملی تشکیل دینے میں کافی وقت اور دماغی طاقت خرچ کئے بغیر  کامیاب  نہیں ہوسکتے ہیں ۔  لیکن مسئلہ ہے، ایسے لیڈر کم ہیں جو پیشہ وارانہ محنت اور توانائی کو ٹیم کی کامیابی کیلئے  لگا رہے ہیں۔

ایک تعلیم و تربیت یافتہ مینجر   ہی مینجمنٹ  کے  بہت سے ٹول ، جن میں  'آن-بورڈنگ، آورینٹیشن، فیلڈ کوچنگ، پرفارمنس  مینجمنٹ، اپریزل اور کیرئر ڈیولپمنٹ ' کو بروئے کار لاتا ہے۔ ایک عام غلطی یہ ہے کہ ناتجربہ کار  کی بجائے تجربہ کارنئے لوگوں کو ملازمت پر رکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 'نئے تجربہ کار 'ٹیم ممبر کا سیلری پیکیج ہی  سیلز ٹارگٹ پورا کروائے گا، لہذا سپروائزر  کو  ٹیم کی کامیابی کیلئے پیشہ وارانہ محنت اور توانائی  لگانے کی بجائے ،ا یک  پُرسکون ہنی مون  کا لطف  اُٹھانا  چاہیے۔  جبکہ  ایک تجربہ کار نئے ریکروٹ پر بھی  کمپنی کے وژن اور سسٹم  سے واقفیت  اور ہم آہنگی  پر اُتنی ہی پیشہ وارانہ محنت اور توانائی  لگانے کی  ضرورت ہوتی ہے، جتنی ایک ناتجربہ کار نئے فرد کیلئے  لگانا  ضروری ہو۔ 

 بصورت، دیگر   'بریانی  اور قیمے والے نان'  کی تواضع سے کامیاب ہونے والے سیاسی لیڈران سے متاثر ہ، کم علم  مالیاتی سپروائزر   بھی 'مٹن کڑھائی، سجی، اور بوفے ' کی دعوتوں کو لیڈرشپ  کا بنُیادی اور اکلوتا فرض سمجھتے ہیں۔  نوکری کا آغاز  ہو، کامیاب بزنس ٹارگٹ  ہو، یا روٹھے ہوئے کو منانا ہو ، 'دعوت کلچر ' کا  واحد ٹول برؤےکار لایا جاتا ہے۔  اس طرزِ عمل سے ماحول نہیں بنا کرتے۔  نئی نسل ، جو موبائل نیٹ پر فوڈ پانڈا کو  آرڈر دے کر  روزانہ دعوت  انجوائے کر سکتی ہو، وہ    کس طرح سے  دعوت کلچر کو  اپنی پیشہ وارانہ ترقی  کا ضامن سمجھ سکتی ہے؟

ٹیلنٹ کو مشغول اور برقرار رکھنے کا ایک ہی  طاقتور طریقہ ہے  کہ تعلیم و تربیت یافتہ مینجر ہوں، جو  مینجمنٹ  کے  ٹولز کی بدولت عملی نتائج سے  مثبت ماحول بنائیں۔  پروفیشنل ازم  ہی  کلچر کی بنیاد ہونی چاہئے، ورنہ برانچ  سسٹم میں موجود ایجنٹ اور  مینیجرز اپنے کام ، زندگی کے مقصد اور ڈھانچے پر نظر ثانی کرتے نظر  آئیں گے۔

۱۔ 'میں ' کی بجائے 'ہم '  کو فروغ دیں:  آپ یقیناً چاہتے ہیں کہ تمام ٹیم ممبرز خوش اور مطمئن محسوس کریں، لیکن کسی ایک کو لاڈپیار  کی ہر حد سے گزر کر سپورٹ کرنا، جبکہ کسی اور کے  جائز مفادات اور مطالبات کو نظرانداز یا مسترد کرنے سے 'بُوس' تباہی کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ منصفانہ انعام و اکرام   equitable rewards کی بدولت ٹیم ورک  کی روح بیدار ہوتی ہے۔  'سب کی کامیابی، میری کامیابی' کے اصول پر گامزن سپروائزر ہر سیلز  ایجنٹ  یا مینیجر کے تعلق، قدر اور مشترکہ عزم کے احساس پر زور دے کر ربط پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

۲۔ اپنے ادارے کے ساتھ ان کے کامیاب مستقبل کا تصور کرنے میں مدد کریں: مینجمنٹ میں  آرگنائزیشن فنکشن  کا ایک  پہلو  “Span of Control” اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ہر مینیجر کی  براہ راست اپنی  افرادی قوت کو  مینیج کرنے کی ایک حد ہوتی ہے۔  اپنی برانچ میں صرف  تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے   پروموشن  لینے کے بعد جب  آپ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی خدمت نہیں کر  پاتے تو ورک کلچر برباد ہوجاتے ہیں ۔  لہذا  جب تک کہ آپ  اپنے ماتحت افراد کو براہ راست سپورٹ میکینزم  کے مضبوط  اور منصفانہ ہونے کا احساس نہیں دلواتے،  اُنھیں آپ کے ساتھ مستقبل  نہیں دکھتا۔  آپ کی لیڈرشپ  میں اُن کے پاس کیریئر کے کیا مواقع ہیں؟ آپ وہاں پہنچنے میں ان کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ کسی بھی لیڈر کا   کیرئر سیلنگ کا  بہترین طریقہ یہ  بتانا اور یقینی بنانا ہے کہ وہ اپنے  آنے والے ریکروٹ کے کامیاب  مستقبل  میں معاون بن سکتے ہیں۔ آپ کے سابقہ /موجودہ ٹیم ممبران  کی حقیقی رائے کہ  کس طرح  ان کے مستقبل اور کیرئر کی ترقی کو آپ کی سربراہی نے ممکن بنایا،نئے آنے والوں کو اپنے  کامیاب مستقبل کی  امید دلواتی ہے۔  

۳۔ فیملی تکافل کے مشن سے  نسبت کو اپنائیں: تکافل ایک مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم کلچر Work Ethics کا تقاضا کرتا ہے۔  پاکستان میں ۲۰۰۵ کے بعد سے تکافل کے اداروں کے قیام اور کام  سے بتدریج  یہ بنیادیں مضبوطی  کی جانب گامزن ہیں۔  اس ابتدائی دور میں  تکافل سے وابستہ مینجر اور ایجنٹ( جن کی بڑی تعداد روائیتی انشورنس کی  انڈسٹری سے  آتی جاتی رہی ہے ) انتہا پسندانہ  مزاج (ادھر ہم ، اُدھر تم)  کی دل آزاری سے گزرتے گزرتے اب معتدل مزاج روئیوں کی جانب آچکی ہے۔اب   جب کوئی  'شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی معاملات' کا  زکر کر رہا ہوتا ہے، تو  اُدھر والے بھی برا نہیں مناتے، کیونکہ وہاں بھی معاملات  'طیب'  ہونا شروع ہوئے ہیں۔  خیر، شریعت میں  برکت، اور اس مشترکہ امداد باہمی کے وقف وکالہ نظام کے اخلاقی اُصول دیگر مذاہب کے پاکستانی پیروکاروں کو بھی اس مشن سے نسبت  میں فخر کا باعث  ہیں۔ سچائی، دیانتداری پر مبنی  تکافل ٹیموں کی مالیاتی مشاورت اور عوام کو ہونے والے حقیقی فوائد سے ہم سب اہلیانِ تکافل انڈسڑی کا  کامیاب مستقبل وابستہ ہے۔


Friday, October 3, 2025

How to get Maximum Productivity from your Agents; Communicating Performance Expectations & Practical Guidelines (Urdu Article)

 


اپنے ایجنٹس سے بہترین نتائج حاصل کریں

کارکردگی کی توقعات پر بات چیت اور عملی رہنمائی فراہم کرنے کا طریقہ

ایک مینیجر کیلئے اپنی ٹیم  کی ناقص کارکردگی کو  بہتری کی طرف لانا ، فیملی تکافل  انڈسٹری  میں ایک بڑا چیلنج  ہوتا ہے۔ مثلاً ، آپ نے اپنے نئے فیملی تکافل ایجنٹوں  کے ساتھ اہداف طے کر لیے ہیں، ٹیم کی ویژن کا جائزہ لیا ہے، اور رول پلے اور اسکرپٹنگ کے ذریعے تکافل پروڈکٹس کی تفصیلات سمجھائی ہیں۔ لیکن وہ گزشتہ دو ماہ سے اپنے ہدف کو پورا نہیں کر پا رہے، اور اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی  علم و عمل کی  کمی کو اس انداز میں واضح کریں جو انہیں مایوس کیے بغیر دوبارہ صحیح راستے پر لے آئے۔ یہیں پر کارکردگی کی توقعات اور باقاعدہ، عملی رہنمائی کا کردار  اہم  بن جاتا ہے — ایسی توقعات اور گفتگو جو محض سیلز نمبرز سے آگے بڑھتی ہیں۔

چونکہ میں زیادہ تر کراچی  ہیڈ آفس  اور ملحقہ برانچوں میں  ٹیموں سے ملتا ہوں۔ تو  کراچی  جیسے مصروف شہر میں، جہاں فیملی تکافل کے اکثر   برانچ  مینیجرز اور  ٹیم ممبرز  اپنی ذاتی پیداوار میں توازن  لانے ، توقعات طے کرنے اور بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرنے  اور ایجنٹوں کی انفرادی رہنمائی  کیلئے وقت  نکالنا Time Manage کرنا ا یک چیلنج  سمجھتے ہیں ،  وہیں  ان ٹیموں میں ہی وہ رول ماڈل  بھی ہوتے ہیں ، جن کا علم اورعمل  دوسروں کے اصلاح احوال  کے عمل کو آسان بنا سکتا ہے ۔   آئیے، ایسے ہی ایک رُول  ماڈل کی حکمت عملی کے اہم نکات   پر نظر ڈالتے ہیں:  

۱۔ گفتگو کو مثبت انداز دیں

کراچی کی ایک کامیاب فیملی تکافل  برانچ  کی سربراہ عائشہ، جو  تیس  رکنی ٹیم کی قیادت کرتی ہیں، کہتی ہیں: "میں کوشش کرتی ہوں کہ ایجنٹ سے بات کہنے سے  پہلے یہ دیکھوں کہ اگر اُن   کی  جگہ میں ہوتی تو  میں اپنے   سینئر کی جانب سے   مجھ  سے بات کرنے، میرا ذکر کرنے اور میری  عملی رہنمائی  کرنے کے کس انداز کو پسند کرتی؟ "

اپنی ٹیم کے  ایجنٹس پر اُن کی کوتاہیوں کی  تنقید  کرنے کی بجائے، عائشہ  بہتری اور کامیابی کے مواقع  بڑھانے پر بات کرتی ہیں۔ وہ کارکردگی کے بارے میں کسی بھی گفتگو کو مثبت نوٹ پر ختم کرنے کا خاص خیال رکھتی ہیں۔  "میں کچھ ایسا کہتی ہوں، 'اگر آپ اس صلاحیت اور علم پر عمل کر سکیں، تو آپ ایک طاقتور فورس بن جائیں گے۔ آئیں یہ کام کر دکھائیں۔"

کارکردگی میں بہتری  کے اہداف اور اُن  کی توقعات کیسے طے کریں، کب رائے دیں، غلط فہمیوں کو کیسے دور کریں اور کیا کہنے سے گریز کریں — یہ سب  ایک مینیجر کی کمیونیکیشن /ابلاغیات  میں مہارت کا تقاضا کرتے ہیں۔

واضح توقعات طے کریں

کارکردگی کے اہداف اور میٹرکس ، جو  کارکردگی کی تشخیص کے معیار پر مشتمل ہوں، کے   بارے میں ٹیم ممبرز کو  واضح معلومات فراہم کرنا بہت ضروری  ہوتا ہے، ۔  عائشہ کو ٹیم کی ویژن کے ساتھ کارکردگی کی توقعات پربات شروع کرنا پسند ہے ، تاکہ ٹیم ممبرز کامیابی کا راستہ تلاش کر سکیں۔  عائشہ کہتی ہیں: "ٹیم کو دکھائیں کہ آپ نہ صرف انہیں اعلیٰ معیار پرپرکھ رہے ہیں، بلکہ آپ اپنی  کارکردگی کو خود  بھی اُسی معیار پرپرکھتے  ہیں۔"   جب بھی مینیجرز اپنے اہداف  اپنی ٹیم ممبرز کے ساتھ شیئر کریں تو  وضاحت کریں کہ وہ یہ مقاصد کیوں طے کر رہے ہیں۔  یہ ضروری ہے کہ ٹیم ممبرز  یہ جانیں کہ دوسرے ٹیم  ممبر  کس چیز پر کام کر رہے ہیں۔ کارکردگی کی توقعات طے کرتے وقت، یقینی بنائیں کہ صرف پیداوار کے نمبروں سے آگے،ٹیم ممبران کی ذاتی ترقی اور کامیابی پر بھی  توجہ دی جائے.

 ہر سال، عائشہ پچھلے سال کی سرگرمیوں کی بنیاد پر ایک تفصیلی رپورٹ  اور نئے سال کی پلاننگ  تیار کرتی ہیں، جن میں   وہ ٹائم مینجمنٹ اور ٹیم کی ذاتی ترقی کے اہداف شامل کرتی ہیں۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ جن تیس ایجنٹس کو وہ منیج کرتی ہیں وہ ان اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہر دو ہفتوں میں ہر ٹیم ممبر کے ساتھ ایک گھنٹے کے لیے ون آن ون ملتی ہیں تاکہ ان کے اہداف حاصل کرنے کے طریقے پر بات کریں۔  "اہداف طے کرنا اور سال میں ایک بار ان کو دیکھنا کافی نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔ "آپ کو ہمیشہ ان کے بارے میں بات کرنی ہوگی۔"

غلط فہمیوں کا  تدارک

واضح توقعات قائم کرنا ایجنٹس اور لیڈرز کے درمیان غلط فہمیوں کو روکنے میں بہت مددگار ہوتا  ہے، لیکن محض توقعات قائم کرنے سے اختلافی  امور ختم نہیں ہوا کرتے۔ ایک عام صورتحال ایجنٹس یا لیڈرز کی کامیابیوں سے  متعلق عدم اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔ عائشہ  کہتی ہیں: "توقعات کے بارے میں زیادہ غلط فہمی نہیں ہوتی۔" بلکہ ، بحث اکثر اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ آیا ٹیم ممبرز اپنے نتائج سے خوش ہیں۔ جب ایجنٹس اپنے اہداف سے پیچھے  رہ جاتے ہیں، تو  عائشہ  انہیں ہدف  کے حصول   کا راستہ پیش کرتی ہیں تاکہ وہ سال کے لیے اپنا ہدف پورا کر سکیں۔ عائشہ کہتی ہیں: "یہ زیادہ آگے بڑھنے کے بارے میں ہے، کیا بہتر کیا جا سکتا ہے، انہیں کس چیز پر توجہ دینی چاہیے، انہیں کون سی اہم سرگرمیاں کرنی چاہئیں" ۔

  عائشہ کے زیر انتظام  ایجنٹس میں سے زیادہ تر اپنے سیلز اہداف  سے ذاتی وابستگی محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ نمبر ہے جو انہوں نے سال کے آغاز میں خود طے کیا تھا۔ عائشہ کہتی ہیں:"اُن کے ہدف کا نمبر وہ  ہے جو وہ  حاصل کرنا چاہتے ہیں، کوئی ایسی چیز نہیں جو میں نے  اُن کے حلق میں اتاری ہو،  بلکہ  یہ  اُن کے ذاتی مقاصد  سے جڑا ہے جو وہ اپنے لیے، یا خاندان یا کیریئر کی خواہشات  سے وابستہ  کرتے ہیں۔"

جب ٹیم ممبرز اپنے نتائج سے مطمئن نہیں ہوتے، تو ان سے بات کرنا ضروری ہے کہ وہ کیوں کمزور  پڑ رہے ہیں،   عائشہ نے کہا۔ "اصول یہ ہے کہ میں ان کی مدد کر سکتی ہوں اگر وہ وہ سب  کریں جس  کی تربیت اور منصوبہ بندی   ہوئی ہے۔ اگر  کوئی عمل کیلئے تیار ہی  نہیں، تو میں اُس شخص پر  کم وقت،  توانائی  اور  رہنمائی  فراہم کروں گی۔"

عائشہ اپنی ٹیم کے ساتھ اسی بنیادی طریقہ کار کو ہر سال  اپناتی ہیں۔ توقع یہ ہے کہ ایجنٹس اپنے اہداف حاصل کریں گے۔ اگر وہ نہیں کرتے، تو عائشہ ان کے ساتھ مل کر بہتری  کے معاملات  پر تربیت کرتی ہیں۔ "ان کی کامیابی میں مدد کرنا میری ذمہ داری ہے، لیکن انہیں مجھے بتانا ہوگا کہ انہیں بھی  عمل اور مقاصد میں دلچسپی ہے۔"

رہنما اپنی ٹیم کو  رائے کب دیں؟

اگرچہ ۹۲  فیصد کارکن  کہتے ہیں کہ وہ ترجیح دیں گے کہ اپنے مینیجر سے سال میں ایک بار سے زیادہ رائے حاصل کریں، لیکن ہر ٹیم ممبر اپنی  کسی  غلطی کے فوراً بعد رائے  اور رہنمائی کی تعریف نہیں کرتا۔  فوری رائے دینے کا فیصلہ ٹیم ممبر کے مزاج ، تربیت  ، انداز کلام  اور  ثقافت پر منحصر ہے، عائشہ  نے کہا۔ "رائے کو اس طریقے سے شیئر کرنا ضروری ہے جس سے وہ شخص اسے بہترین طریقے سے قبول کرے،" انہوں نے کہا۔ اکثر کوچنگ اور رہنمائی ہفتہ وار ون آن ون میٹنگ کے دوران بہترین طریقے سے موصول ہوتی ہے۔

عائشہ  کہتی ہیں:" میرا تجربہ یہ ہے کہ آپ کو جاننا ہوگا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں، کچھ ملازمین تجزیاتی ہوتے ہیں اور کچھ جذباتی، لہذا یہ ضروری ہے کہ رائے اس انداز میں دی جائے جو ان کے لیے زیادہ قابل فہم ہو۔"

  عائشہ کے پاس رائے دینے کا کوئی طے شدہ  شیڈول نہیں ہے، وہ صورتحال کے مطابق طریقہ کو ترجیح دیتی ہیں۔ "کبھی کبھی مجھے فوری رائے دینی پڑتی ہے، تاکہ سب کو صورتحال سمجھ آئے،" انہوں نے کہا۔ جب ایسا ہوتا ہے، تو وہ  ایسا  کچھ بھی کہنے  کا خیال رکھتی ہیں جسے ایجنٹ اپنی  ذات پر حملے کے   طور پر لے سکتا ہے، لہذا  ان کے ساتھ ہونے والی  صورتحال کا تجزیہ کرتے کرتے اُن کی اصلاح  کو ترجیح دیتی ہیں۔

سرعام منفی رائے دینے سے گریز کریں

ٹیم ممبرز کو منفی رائے دینے سے  گریز  کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کچھ مثبت کہہ کر شروع کریں  ۔ عائشہ  ہمیشہ کسی ایسے کام کی   کامیابی کے  حوالے  سے  بات شروع کرتی ہیں جو ایجنٹ نے  کیا ہو۔ "میں وضاحت کرتی ہوں کہ جو میں کہنے والی ہوں وہ ان کی بھلائی کیلئے ہے، ان کے خلاف نہیں۔"   مینیجر کے لیے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس کا ارادہ کسی کو بہتر بنانے یا بہتر نتائج پیدا کرنے میں مدد کرنا ہے۔ عائشہ نے کہا، "انہیں بتائیں کہ یہ  بات  یا گفتگو  دراصل ان کی اپنی بھلائی کے لیے ہے، ان کو شرمندہ کرنے کے بارے میں نہیں"   ۔

اپنی رائے کو کارکن کی  سرگرمی پر مرکوز رکھیں، اُس  کی  شخصیت   پر نہیں۔  مثال کے طور پر، کبھی بھی کسی ایجنٹ کو  یہ نہ بتائیں کہ وہ اچھا کام نہیں کر رہا۔ بلکہ  وضاحت کریں کہ ان کی  موجودہ  سرگرمی اُن کے  نتیجے کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، "جب آپ نے کلائنٹ سے وہ کہا، یہ وجہ ہے کہ آپ کا کام نہیں ہوا ۔"

عائشہ بھی منفی رائے دیتے وقت سرگرمی پر توجہ دیتی ہیں، شخص پر نہیں۔ کلائنٹ میٹنگ کے بعد، وہ ایجنٹ سے سوالات پوچھتی ہیں جیسے، "آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ میٹنگ کیسی رہی؟" اور "آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ مختلف طریقے سے کیا کر سکتے تھے؟"  وہ وضاحت کرتی ہیں کہ جس طرح انہوں نے بات چیت کی یا برتاؤ کیا وہ ممکنہ حد تک مؤثر کیوں نہیں تھا، اور مستقبل میں کیا مختلف کرنے کے بارے میں تجاویز فراہم کرتی ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی رائے مانگی جائے کہ وہ کیا مختلف کر سکتے تھے اور پھر اس پر بات کریں ۔ ایک وقت میں بہت زیادہ رائے دے کر کسی ایجنٹ کو مغلوب نہ کرنا بھی دانشمندی ہے۔ عائشہ نے کہا "اپنے آپ سے پوچھیں، اس لمحے، سب سے اہم چیز کیا ہے جس سے اس شخص کاآگاہ ہونا ضروری ہے۔"

 اپنی غلطیوں  کو  دہرانے سے بچیں

کسی ایجنٹ کی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے وقت انفرادیت  سے کام لینا ضروری ہے، عائشہ نے کہا۔ "عوامی انداز  میں  بیانات الجھن کا باعث بنتے ہیں، لیڈر مسائل کیلئے ون۔ٹو۔ون میٹنگ میں   general  کی  بجائے  Specific بات  پر  زور دیتا ہے۔ "   اصلاح کرتے ہوئے موازنے کرنا   عام طور پر غیر مفید ہوتا ہے۔ عائشہ کسی ایجنٹ کی کارکردگی کا اپنی ماضی کی کارکردگی سے موازنہ نہیں کرتیں یا اپنی پچھلی کامیابیوں کو مثال کے طور پر استعمال نہیں کرتیں۔ "میں کبھی نہیں کہتی، 'جب میں ٹاپ پرفارمر تھی، میں نے یہ کیا،' یا 'جب میں نمبر 1 ایجنٹ تھی، میں نے یہ کیا'،" انہوں نے کہا۔ "یہ مثبت نہیں ہے۔"

کسی ایجنٹ کے ساتھ ان کی کارکردگی کے بارے میں بات کرتے وقت، عائشہ یہ تجویز کرتی ہیں کہ فیصلے سنانے  سے پرہیز کریں جب تک کہ ایجنٹ کو اپنا نقطہ نظر شیئر کرنے کا موقع نہ مل چکا ہو۔ ٹیم کے رکن  اور ان کے کام کے بارے میں متجسس رہیں۔ آخر میں، ایک مینیجر جو سب سے بڑی غلطی کر سکتا ہے وہ  یہ ہے کہ  ٹیم ممبر کے لیے اُس کی رضامندی  کے بغیر  اہداف طے کرنا ۔اگر میں انہیں اپنی مرضی کا   بزنس کا  نمبر دیتی ہوں، جو اُن کی طرف سے نہیں آ رہا ا تو یہ مدد نہیں کرے گا۔" ٹیم ممبرز کے ساتھ کاروباری افراد کی طرح سلوک کریں، انہوں نے کہا۔ "وہ یہاں ہیں کیونکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔" آپ کا کام ان کی مدد کرنا ہے۔ اگر وہ  ہر دن، ہر ہفتے، مہینے  اور کوارٹر میں آپ کی  توقعات پر مبنی  نمبر نہ لانے  میں  نااہلی کے طعنے سنیں گے، تو  آپ کی ٹیم کی ریٹینشن  کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آپ کی برانچ میں سناٹا ہوگا۔'

 خلاصہ

کراچی میں فیملی تکافل ایجنسی چلانا چیلنجنگ ہو سکتا ہے، لیکن صحیح کمیونیکیشن، واضح توقعات، اور با معنی رہنمائی کے ساتھ، آپ اپنی ٹیم کو کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہر ایجنٹ منفرد ہے اور انہیں ایک ایسے طریقے سے رہنمائی کی ضرورت ہے جو ان کی انفرادی شخصیت  کی  ضروریات کو پورا کرے۔  جب آپ اِن اصولوں پر عمل کرتے ہیں — مثبت فریمنگ، واضح توقعات، بروقت رائے، اور احترام کے ساتھ رہنمائی — آپ نہ صرف اپنے ایجنٹس کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، زیادہ مصروف ٹیم بھی بناتے ہیں جو  آپ  کے علاقے  میں  کفیلوں  اور اُن کے خاندانوں کو شریعہ کے مطابق مالی تحفظ فراہم کرنے کے مشترکہ مشن پر کاربند ہوں۔

Friday, October 7, 2022

Course Introduction Video: How to Boost Frontline Sales Management?

 Please watch and subscribe to DFTL's Online Learning Channel which will contain bilingual online courses and content related with Sales Management, Communication/Soft Skills, and Takaful/Risk Management practices. https://youtu.be/jwkIZtfCfqk


Joint Fieldwork to Boost Financial Advisors' Performance

  Joint Fieldwork to Boost Financial Advisors' Performance The Tool to Inspire Loyalty and Problem-Solving Skills in Teams Although ...