Saturday, June 20, 2026

Emotional Intelligence - صرف ہدف نہیں، دل جیتیں: فیملی تکافل لیڈرشپ میں جذباتی ذہانت کا جادو

ایک مینیجر کیلئے اپنی ٹیم  کی ناقص کارکردگی کو  بہتری کی طرف لانا ، فیملی تکافل (لائف انشورنس کے شرعی متبادل)   انڈسٹری  میں ایک بڑا چیلنج ہے۔  بیشتر مینیجر  موجودہ  دور اور نئی  جنریشن  کے فیملی تکافل ایڈوائیزر کو ۱۔ فیلڈ میں  اہداف  کے حصول  کے طر یقے  سمجھاتے  ہیں؛ ۲۔ ٹیم کو اپنے نظریئے / ویژن  سے آگاہ  کرتے ہیں ؛ ۳۔   روزانہ  کے  معاملات  کا جائزہ لیتے ہیں ؛   ۴۔ رول پلے اور ۵۔  اسکرپٹنگ کے ذریعے تکافل پروڈکٹس کی تفصیلات  بھی سمجھا تے  ہیں     ۔ لیکن پھر بھی  وہ  اپنے ہدف کو پورا نہیں کر پا  تے! تو  کہاں  کمی   رہ جاتی ہے؟   مجھے حیرت  اُس وقت ہوئی جب ایک  ماتحت مینیجر نے   اوپر بتائے ہوئے اپنے سینئر  کے  اقدامات کو  ١٩٦٥  کی  دقیانوسی  پلے بُک  کی کاروائیاں قرار دیا!

دورِ نفسا نفسی  میں   اپنی مصروفیات  میں  سے  وقت نکال کر   اپنی ٹیم ممبران   کی  ترجیحات  طے کرنا ،اُن  کی  کارکردگی  میں بہتری  کی کوشش کرنا، ٹیم کے  نتائج میں  بہتری کے لیےٹیم کو  رہنمائی فراہم کرنا  اور ایجنٹوں کی انفرادی رہنمائی  کیلئے بھی  وقت  نکالنا/ Time Manage کرنا  - یہ سبمینیجروں   کیلئے  در حقیقت  ایک پیشہ وارانہ  آزمائش / چیلنج  بن چکا ہے۔  البتہ  اس چیلنج  کا  استقامت اور ہمت سے  سامنا کرنے والے ہی  دورِ حاضر   میں  اپنی ٹیموں  کے رول ماڈل ہوتے ہیں ، جن کا علم اورعمل ٹیم  کی  اصلاح احوال کو آسان بنا تا ہے۔

   آئیے، ایسے ہی ایک رُول  ماڈل کی حکمت عملی کے اہم نکات   پر نظر ڈالتے ہیں - ایک کامیاب فیملی تکافل  برانچ  کے سربراہ مرتضٰی (فرضی نام)   ، جو پندرہ   رکنی  ریگولر  پروڈیوسر ٹیم کی قیادت کرتے ہیں ، اُن کے مطابق  آج کی  نئی نسل کی   پرفارمنس مینجمنٹ  میں   Emotional Intelligence/ جذباتی ذ ہانت  کو بروئے کار لانا   ضروری ہوچکا ہے۔      مسلسل  انکار  کا سامنا کرنے والے  ایڈوائزر  کی اصلاح  کرنے  کیلئے کسی  بھی   مینجر  پلے  بُک   میں سے    'Low-Producer Clinic'   کے نسخے  پر عمل کرنے  سے  پہلے،  نئی  جنریشن  کے فیملی تکافل ایڈوائیزر کے روئیوں ، جذبات  اور ذاتی  تاثرات  کو سمجھنا اور اُن  کی  اصلاح کرنا  ضروری ہوتا ہے۔ علم و عمل کی  کمی کو اس انداز میں واضح کریں جو انہیں مایوس کیے بغیر دوبارہ صحیح راستے پر لے آئے۔ یہیں پر کارکردگی کی توقعات اور باقاعدہ عملی رہنمائی  میں  ایموشنل  انٹیلیجنس  کا کرداراہم  بن جاتا ہے — ایسی رہنمائی اور حوصلہ افزا  گفتگو جو  سیلز نمبرز سے آگے بڑھ  کر  انسانی  تعلقات اور  اعتماد سازی  کو ترجیح  بناتی ہیں۔

  ۱۔ منفی تاثرات  کو زائل کرنے کا فن!

نہ صرف  ناقص کارکردگی بلکہ  عمدہ کارکردگی کے حامل ٹیم ممبران سے  بھی  وقتاً فوقتاً    کام کی نوعیت، کام کے ماحول اور  منسلک   افراد سے متعلق  فیڈ بیک/ تاثرات کو حاصل کرنے سے آپ  اپنی ٹیم   کے مورال کو گرنے سے بچا سکتے ہیں۔  مرتضٰی کے مطابق 'اگر کوئی   ٹیم ممبر  خود کو  علی بابا اور باقی سب کو چالیس چور  سمجھنا شروع کردے تو اُس  کی کارکردگی  ہی نہیں  بلکہ  لہجے اور چال ڈھال میں بھی   بد اعتمادی  کی جھلک نظر آجاتی ہے،  وہ  بندہ   خود تو  کام  نہیں کرتا ، ساتھ ہی آپ  کے ما حول کو بھی  خراب کردیتا ہے'۔

دیگر رول ماڈل مینیجر بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ٹیم کی 'ہم آہنگی/Harmony' کیلئے مینجر کے قول و فعل کا اپنی ٹیم کو 'سکھائے جانے والے' قول و فعل  سے تضاد نہیں ہونا چاہئے۔  اسی طرح  ماحول کے منفی تاثر کو زائل کرنے کیلئے صرف   زبانی اخلاقیات اور اسلامیات کے درس  ہی نہیں، بلکہ  عملی خُلوص ، اِیثار اور موُدت سے ہی   اچھے ماحول اور  ٹیمیں تشکیل پاتی ہیں۔

  ٢۔ منفی حالات میں بھی مثبت گفتگو کا فن!

مرتضٰی کہتے ہیں: "میں کوشش کرتا ہوں کہ ایڈوائزروں سے  کوئی بات کہنے سے  پہلے یہ دیکھوں کہ اگر اُن   کی  جگہ میں ہوتا تو  میں اپنے   سینئر کی جانب سے   مجھ  سے بات کرنے، میرا ذکر کرنے اور میری  عملی رہنمائی  کرنے کے کس انداز کو پسند کرتا؟ " اسے    ایموشنل  انٹیلیجنس میں  Empathy/ احساس کرنا کہتے ہیں۔   اپنی ٹیم کے  ایجنٹس پر اُن کی کوتاہیوں پر  تنقید  کرنے کی بجائے، مرتضٰی  بہتری اور کامیابی کے مواقع  بڑھانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ کارکردگی کے بارے میں کسی بھی گفتگو کو مثبت نوٹ پر ختم کرنے کا خاص خیال رکھتے ہیں۔  "میں حوصلہ افزائی کیلئے  کچھ ایسا کہتا ہوں، 'اگر آپ اپنی نئی  صلاحیت اور علم پر عمل کر سکیں، تو آپ ایک  بہترین  ٹیم ممبر  بن جائیں گے۔ باقی جو بھی کہیں ، میں آپ  کی کامیابی  کیلئے پُر اُمید ہوں۔ "   کارکردگی میں بہتری  کے اہداف اور اُن  کی توقعات کیسے طے کریں، کب رائے دیں، غلط فہمیوں کو کیسے دور کریں اور کیا کہنے سے گریز کریں — یہ سب  ایک مینیجر کی کمیونیکیشن /ابلاغیات  میں   ایموشنل  انٹیلیجنس  کی مہارت کا تقاضا کرتے ہیں۔

٣۔  توقعات  اور اہداف کو آسان بنانے کا فن !

توقعات  کا تعلق کارکردگی کے معیار، جبکہ   کاروباری  اہداف (نمبروں)  کا تعلق ممبر کی  ترقی  سے جوڑنا ہوتا ہے۔  سب سے پہلے توقعات  پر بات کی جاتی ہے، پھر توقعات  کے پورا ہونے سے آٹو میٹک  نمبروں  کی ضرورت  بھی پوری ہوجاتی ہے۔   ایک مینیجر  اپنی ٹیم ممبر کی کیرئر کی ترقی کی یہی پکچر  بنا کر انہیں کامیابی کی طرف  گامزن رکھتا ہے۔ 

 کارکردگی کے اہداف اورمعیار (KPIs) ، جو  کارکردگی کی تشخیص کے میٹرکس   پر مشتمل ہوں، کے   بارے میں تمام  ٹیم ممبرز کو  واضح معلومات فراہم کرنا بہت ضروری  ہوتا ہے۔  مرتضٰی کو ٹیم کے ویژن کے ساتھ ساتھ اُن کی   کارکردگی کی توقعات  کا اظہار  اس انداز میں کرنا پسند ہے کہ ٹیم ممبرز خود اپنی  کامیابی کا راستہ  تلاش کر سکیں۔ اس طرح سے ٹیم ممبران اپنے ہدف کو اپنے طے کردہ راستے کے مطابق حاصل کرنا آسان سمجھتے ہیں۔  مرتضٰی کہتے ہیں: "ٹیم کو دکھائیں کہ آپ نہ صرف انہیں  (KPIs)اعلیٰ معیار پرپرکھ رہے ہیں، بلکہ آپ خود بھی  اپنی  کارکردگی کو خود  بھی اُسی معیار (KPIs) پرپرکھتے  ہیں۔"   جب بھی مینیجرز اپنے اہداف  اپنی ٹیم ممبرز کے ساتھ شیئر کریں تو  وضاحت کریں کہ وہ یہ مقاصد کیوں طے کر رہے ہیں۔  یہ ضروری ہے کہ ٹیم ممبرز  یہ جانیں کہ دوسرے ٹیم  ممبر  کس چیز پر کام کر رہے ہیں۔ کارکردگی کی توقعات طے کرتے وقت، یقینی بنائیں کہ صرف پیداوار ی نمبروں کے علاوہ ٹیم ممبران کی ذاتی ترقی اور کامیابی پر بھی  توجہ دی جا رہی  ہے۔  مرتضیٰ کہتے ہیں کہ ' میٹنگ میں میرا سلوگن یہی ہوتا ہے کہ آپ کو کامیاب بنانا ہی میری کامیابی  کا معیار ہے'۔

 ہر سال، مرتضٰی پچھلے سال کی سرگرمیوں کی بنیاد پر ایک تفصیلی رپورٹ  اور نئے سال کی پلاننگ  تیار کرتے ہیں، جن میں   وہ ٹائم مینجمنٹ اور ٹیم کی ذاتی ترقی کے اہداف شامل کرتے ہیں۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ جن  پندرہ ایجنٹس کو وہ منیج کرتے ہیں وہ اُن اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہر دو ہفتوں میں ہر ٹیم ممبر کے ساتھ ایک گھنٹے کے لیے ون آن ون ملتے ہیں تاکہ ان کے اہداف حاصل کرنے کے طریقے پر بات کریں۔  "اہداف طے کرنا اور سال میں ایک بار ان کو دیکھنا کافی نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔ "آپ کو یہ احساس دلوانا ضروری ہے کہ آپ  ہمیشہ ان کی ترقی اور کامیابی  کیلئے بات کرتے ہیں ۔"

٤۔ غلط فہمیوں کے  تدارک  کا  فن!

واضح توقعات قائم کرنا ایجنٹس اور لیڈرز کے درمیان غلط فہمیوں کو روکنے میں بہت مددگار ہوتا  ہے، لیکن محض توقعات قائم کرنے سے اختلافی  امور ختم نہیں ہوا کرتے۔ ایک عام صورتحال ایجنٹس یا لیڈرز کی کامیابیوں سے  متعلق عدم اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔ مرتضٰی   کہتے ہیں: "توقعات کے بارے میں زیادہ غلط فہمی نہیں ہوتی۔" بلکہ ، بحث اکثر اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ آیا ٹیم ممبرز اپنے نتائج سے خوش ہیں۔ جب ایجنٹس اپنے اہداف سے پیچھے  رہ جاتے ہیں، تو مرتضٰی  انہیں ہدف  کے حصول   کا راستہ پیش کرتے ہیں تاکہ وہ سال کے لیے اپنا ہدف پورا کر سکیں۔ مرتضٰی کہتے ہیں: "یہ زیادہ آگے بڑھنے کے بارے میں ہے، کیا بہتر کیا جا سکتا ہے، انہیں کس چیز پر توجہ دینی چاہیے، انہیں کون سی اہم سرگرمیاں کرنی چاہئیں" ۔

مرتضٰی کے زیر انتظام  ایجنٹس میں سے زیادہ تر اپنے سیلز اہداف  سے ذاتی وابستگی محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ وہ نمبر ہے جو انہوں نے سال کے آغاز میں خود طے کیا تھا۔ مرتضٰی کہتی ہیں:"اُن کے ہدف کا نمبر وہ  ہے جو وہ  حاصل کرنا چاہتے ہیں، کوئی ایسی چیز نہیں جو میں نے  اُن کے حلق میں اتاری ہو،  بلکہ  یہ  اُن کے ذاتی مقاصد  سے جڑا ہے جو وہ اپنے لیے، یا خاندان یا کیریئر کی خواہشات  سے وابستہ  کرتے ہیں۔"

جب ٹیم ممبرز اپنے نتائج سے مطمئن نہیں ہوتے، تو ان سے بات کرنا ضروری ہے کہ وہ کیوں کمزور  پڑ رہے ہیں،   مرتضٰی نے کہا۔ "اصول یہ ہے کہ میں ان کی مدد کر سکتا ہوں اگر وہ وہ سب  کریں جس  کی تربیت اور منصوبہ بندی   ہوئی ہے۔ اگر  کوئی عمل کیلئے تیار ہی  نہیں، تو میں اُس شخص پر  کم وقت،  توانائی  اور  رہنمائی  فراہم کروں گی۔"

مرتضٰی اپنی ٹیم کے ساتھ اسی بنیادی طریقہ کار کو ہر سال  اپناتے ہیں۔ توقع یہ ہے کہ ایجنٹس اپنے اہداف حاصل کریں گے۔ اگر وہ نہیں کرتے، تو مرتضٰی ان کے ساتھ مل کر بہتری  کے معاملات  پر تربیت کرتے ہیں۔ "ان کی کامیابی میں مدد کرنا میری ذمہ داری ہے، لیکن انہیں مجھے بتانا ہوگا کہ انہیں بھی  عمل اور مقاصد میں دلچسپی ہے۔"

۵۔ فیڈ بیک کا فن!  

ہر ٹیم ممبر کا مزاج الگ ہوتا ہے؛ کچھ ملازمین تجزیاتی (Analytical) ہوتے ہیں اور کچھ جذباتی (Emotional) ۔ اس لیے مینیجر کو فوری رائے (Feedback) دینے کا فیصلہ صورتحال اور ایڈوائزر کے مزاج کے مطابق کرنا چاہیے ۔ ایک مینیجر جو سب سے بڑی غلطی کر سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ  وہ  فیڈ بیک  دیتے ہوئے  یا   اصلاح کرتے وقت موازنہ (Comparison) کرنا شروع کر دے ۔ مرتضیٰ کبھی نہیں کہتے"جب میں ٹاپ پرفارمر تھا یا جب میں نمبر 1 ایجنٹ تھا، میں یہ کیا کرتا تھا'   یہ انداز غیر مفید ہے۔ ٹیم ممبرز کے ساتھ کاروباری شراکت داروں کی طرح سلوک کریں ۔ اگر انھیں  ہر دن، ہر ہفتے اور ہر مہینے آپ کی توقعات پر مبنی نمبر نہ لانے پر صرف نااہلی کے طعنے سننے کو ملیں گے، تو برانچ میں ٹیم ریٹینشن (Retention) کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، برانچ جلد ہی سنسان ہو جائے گی ۔

تعمیری اصلاح کرتے ہوئے عوامی یا سرعام منفی رائے دینے سے ہمیشہ گریز کریں کیونکہ یہ الجھن اور شرمندگی کا باعث بنتی ہے ۔ مرتضیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی ایسی کامیابی کی تعریف سے بات شروع کرتے ہیں جو ایجنٹ نے حاصل کی ہو ۔ سب سے اہم اصول یہ ہے کہ آپ کی رائے کارکن کی سرگرمی (Activity) پر مرکوز ہونی چاہیے، اس کی شخصیت پر نہیں ۔ مثال کے طور پر، یہ کہنے کے بجائے کہ "آپ اچھا کام نہیں کر رہے"‌، یوں کہیں"جب آپ نے کلائنٹ سے وہ مخصوص بات کہی، تو اس وجہ سے آپ کا کام (کیس) کلوز نہیں ہو پایا"۔ کلائنٹ میٹنگ کے بعد ایجنٹ پر فیصلے سنانے کے بجائے اس سے سوالات پوچھیں آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ میٹنگ کیسی رہی؟" اور "آپ مستقبل میں کیا مختلف کر سکتے ہیں؟"

مینیجرز کے لیے: جذباتی ذہانت کی چیک لسٹ

برانچ مینیجرز اس چیک لسٹ کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر اپنے رویے اور ٹیم مینجمنٹ کا احتساب کر سکتے ہیں:

  • خود احتسابی (Self-Awareness): کیا میں فیلڈ کی کسی ناکامی یا دباؤ کا غصہ اپنی برانچ کے ماحول یا ماتحتوں پر تو نہیں نکال رہا؟
  • احساسِ ہمدردی (Empathy): کیا میں کسی ایڈوائزر کو نصیحت یا تنقید کرنے سے پہلے خود کو اس کی جگہ (مسلسل انکار سننے والے کی پوزیشن پر) رکھ کر سوچتا ہوں؟
  • انفرادی توجہ (1-on-1 Focus): کیا میں اپنی ٹیم کے ہر ایڈوائزر کے ساتھ ہر دو ہفتے بعد کم از کم ایک گھنٹہ اس کی ذاتی ترقی اور کیریئر پلاننگ کے لیے مخصوص کر رہا ہوں؟
  • تعمیری فیڈ بیک (Constructive Feedback): کیا میرا فیڈ بیک ایڈوائزر کی ذات یا شخصیت پر حملے کے بجائے صرف اس کی فیلڈ ایکٹیویٹی (Activity) کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے؟
  • مثبت اختتام (Positive Framing): کیا میں کارکردگی پر ہونے والی ہر کڑوی یا سنجیدہ گفتگو کو ایک پُر امید، حوصلہ افزا اور مثبت نوٹ پر ختم کرتا ہوں؟
  • غیر ضروری موازنہ سے گریز (No Comparisons): کیا میں ٹیم کی اصلاح کرتے وقت اپنی ماضی کی کامیابیوں کا موازنہ کر کے انہیں احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے سے پرہیز کرتا ہوں؟

·        مشترکہ وژن (Shared Vision): کیا برانچ کے سیلز اہداف ایڈوائزر کے اپنے ذاتی اور خاندانی خوابوں سے جڑے ہوئے ہیں یا یہ صرف مجھ (مینیجر) کی ضرورت ہیں؟ 


خلاصہ

پاکستان  میں فیملی تکافل ایجنسی چلانا چیلنجنگ ہو سکتا ہے، لیکن صحیح کمیونیکیشن، واضح توقعات، اور با معنی رہنمائی کے ساتھ، آپ اپنی ٹیم کو کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہر ایجنٹ منفرد ہے اور انہیں ایک ایسے طریقے سے رہنمائی کی ضرورت ہے جو ان کی انفرادی شخصیت  کی  ضروریات کو پورا کرے۔  جب آپ اِن اصولوں پر عمل کرتے ہیں — مثبت فریمنگ، واضح توقعات، بروقت رائے، اور احترام کے ساتھ رہنمائی — آپ نہ صرف اپنے ایجنٹس کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، زیادہ مصروف ٹیم بھی بناتے ہیں جو  آپ  کے علاقے  میں  کفیلوں  اور اُن کے خاندانوں کو شریعہ کے مطابق مالی تحفظ فراہم کرنے کے مشترکہ مشن پر کاربند ہوں۔


 

Winning Hearts, Not Just Targets: The Magic of Emotional Intelligence in Family Takaful Leadership


 

In the Family Takaful industry—the Shari’ah-compliant alternative to conventional life insurance—the greatest challenge a branch manager faces is turning around underperforming subordinates. Most managers tackle this by teaching corporate playbooks, running role-plays, and enforcing strict script-memorization. Yet, targets remain unmet. The reality is that stepping into the field and facing constant client rejections breaks an advisor's morale. Responding to this with outdated, high-pressure tactics from a 1965 playbook only skyrockets employee turnover.

If we want our branches to thrive today, we must look beyond sales numbers and tap into the power of Emotional Intelligence (EI). Let’s look at the strategy of Murtaza (pseudo name), a highly successful Branch Head managing a team of 15 regular producers. He leads not with an iron fist, but through the modern principles of emotional leadership.

1. The Branch Emotional Ecosystem and "Leading by Example"

The foundational element of Emotional Intelligence is a manager's ability to consistently gauge team morale and read the emotional currents within the office environment. Murtaza notes, "If a team member begins to see themselves as Ali Baba and everyone else as the forty thieves, this distrust instantly reflects in their tone and body language." Such an individual stops producing and actively poisons the branch culture.

  • Modern L&D Insight (Emotional Investment): To dissolve negativity, verbal lectures on ethics and values are not enough. Takaful is inherently built on the values of Muwaddat (mutual love), Eesaar (selflessness), and genuine sincerity. When a manager’s actions perfectly align with the values they preach, team harmony emerges organically.

2. The Art of Handling Field Rejection (Empathy & Positive Framing)

Takaful advisors absorb immense psychological stress in the field. Murtaza operates on a golden rule: "Before addressing an advisor, I put myself in their shoes and ask how I would want my own senior to speak to me." In emotional intelligence, this is Empathy.

  • Modern L&D Insight (Validating Success): Instead of criticizing an advisor's shortcomings, a leader must always conclude performance conversations on a positive note. For instance, Murtaza encourages his struggling agents by saying: "If you can implement this new skill and knowledge, you will become an elite team member. No matter what happened today, I remain entirely optimistic about your success." This shift in framing transforms fear into hope.

3. The "Takaful Mindset" and Personalizing Business Targets

An effective manager does not simply chase raw sales volume; they connect corporate Key Performance Indicators (KPIs) to the advisor’s personal growth. When a manager sets clear expectations regarding the quality of work, the sales volume follows naturally.

  • Modern L&D Insight (The Partnership Principle): A target should never feel like something shoved down an advisor's throat; it must be a number they chose themselves at the start of the year to fulfill their own family and career aspirations. Murtaza does not believe in reviewing goals just once a year. He holds a dedicated, one-hour bi-weekly 1-on-1 meeting with each agent. His leadership slogan is simple: "Your success is the only metric of my success." When managers evaluate themselves by the exact same high standards (KPIs) they set for their team, mutual trust skyrockets.

4. The Feedback Lifecycle: Focus on Activity, Not Personality

Every team member has a unique psychological makeup; some are highly analytical, while others are deeply emotional. Therefore, providing feedback requires situational awareness and a deep understanding of the advisor's personality.

  • Modern L&D Insight (Constructive Correction): Public criticism must be avoided at all costs, as it leads to embarrassment and disengagement. Murtaza always initiates feedback by highlighting a recent success achieved by the agent. The absolute rule here is: Focus your feedback entirely on the advisor’s activity, never on their personality. For example, instead of saying, "You are not doing a good job," rephrase it to: "When you said that specific phrase to the client yesterday, it disrupted the closing process." Debrief by asking open-ended questions: "How do you feel that meeting went?" and "What could you do differently next time?"

5. Fatal Management Errors That Destroy Teams

The biggest mistake a manager can make during correction is drawing toxic comparisons. Murtaza never says: "When I was the top performer or the number one agent, I used to do this..."—this approach is entirely counterproductive. Treat your team members as business partners. If advisors only hear taunts about their inability to hit weekly or monthly metrics, retention becomes impossible, and your branch will soon stand empty.

The Emotional Intelligence (EI) Checklist for Branch Managers

A practical self-assessment tool for managers to review their daily team interactions:

  • Self-Awareness: Am I projecting field stress or corporate pressure onto my branch environment or my subordinates?
  • Empathy: Before offering criticism, do I actively place myself in the shoes of an advisor who has just faced a day of harsh client rejections?
  • Individual Focus (1-on-1s): Do I dedicate at least one uninterrupted hour every two weeks to discuss each advisor’s personal career path and growth?
  • Constructive Feedback: Is my feedback strictly analytical and focused on field activity, or am I accidentally making it an attack on the individual’s character?
  • Positive Framing: Do I ensure that even the toughest performance review finishes on an encouraging, optimistic, and supportive note?
  • Zero Toxic Comparisons: Do I consciously refrain from using my past accolades and "top producer" stories to make struggling agents feel inferior?
  • Shared Vision: Are the branch targets aligned with the personal, financial, and family dreams of my advisors, or do they only serve my own managerial targets?


Conclusion:

Running a Family Takaful agency in Pakistan is undeniably challenging. However, through empathetic communication, transparent expectations, and meaningful guidance, you can lead your team to sustainable success. By practicing positive framing, timely feedback, and genuine respect, you don't just upgrade sales numbers—you build a resilient, engaged team bound together by a shared mission to provide Shariah-compliant financial protection to families.

Tuesday, October 7, 2025

#1 Success Formula in Rural Pakistan - Better Listening Skill. (Urdu Article)

 دیہی پاکستان میں مالیاتی اداروں کی کامیابی کا نمبر'۱' فارمولا:  بات  خُلوص سے سُننا

اگرچہ 'سننے ۔ Listening' کی صلاحیت،  لیڈرشپ کی اہم ترین صلاحیتوں   میں شامل ہے، میں نے اس بلاگ  کی ہیڈلائن میں بالخصوص 'دیہی پاکستان ' کا نام کسی وجہ سے لکھا ہے۔  ہمارے قصبوں  اور دیہاتوں سے مالیاتی اداروں میں آنے والے متنوع  افراد  ، چاہے وہ  اندرونِ سندھ،  شمالی بلوچستان،  خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان یا جنوبی پنجاب سے ہوں، مختلف  زبانوں اور ثقافتوں  کے امین ہیں۔   اِن کو ایک مرتبہ آپ پر اعتبار ہو جائے، تو  خود غرضی ،بے مروتی اور بے دید پن کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ پانچوں انگلیوں کی طرح، یہاں بھی گنجائش ہے ہر 'منفی' پن کی، لیکن  ان علاقوں کے  قناعت پسند ، مان سمان دینے اور چاہنے والوں  کو  وابستہ رکھنے کیلئے، آپ کی توجہ اور اچھی سماعت ، آپ کے قابل اعتماد دوستوں کی تعداد میں خاظر خواہ اضافہ  کردیتی ہیں۔

ماضی قریب میں ،میرپورخاص میں فیملی تکافل برانچ کے ایک مینیجر ، وسان صاحب  نے کئی سال پرانا   ایک واقعہ  سنُایا۔  ایک نیاکنسلٹنٹ اُن کے پاس آیا  جو اپنی تکافل ڈسٹری بیوشن  کی پریکٹس میں درپیش مشکلات کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا۔ "میں نے اُس کی  مشکل  کا ذکر آتے ہی اُسے حوصلہ دیا کہ ایک دن میں صرف اُس دن کے آسان ہدف  پر توجہ دیں۔  ایک کال کے بعد  دوسری کال تک  اُس وقت تک بڑھیں حتیٰ کہ ایک  اپوانٹمنٹ طے ہوجائے۔  جب ایک نئے کلائنٹ سے میٹنگ ہو جائے تو  اگلے ریفرل  کو حاصل کریں۔ "   وسان صاحب کو یقین تھا کہ ان کی  حوصلہ افزائی والی ترکیب اُسے ایک کامیاب  کنسلٹنٹ بننے کے راہ پر گامزن کر دے گی۔ اس کے بجائے، وہ  نیا  کارکن اسی ہفتے کے آخر میں اُن سے جُدا ہو گیا۔   وسان  صاحب کو اب یہ یقین ہے کہ اگر وہ اسے کچھ بتانے سے پہلے اُس  کی  کیفیات اور خدشات کو کھلے دل سے سنتے تو شاید وہ نیا کارکن تکافل مشاورت کے عمل  کو زیادہ مثبت طریقے سے دیکھ پاتا۔

جس  طرح 'بات کرنے کی تمیز ' کا طعنہ ہوتا ہے، کاش 'بات سُننے کی تمیز' کا بھی عام ہوتا! فنِ سماعت یعنی سننے کا حوصلہ پیدا کرنا   آسان ہنر نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ اپنی سننے اور قیادت کی صلاحیتوں کو بڑھانے  کیلئے خاصی مشق اور تجربہ درکار ہوتا  ہے۔   اندرونِ ملک  کی ٹیموں میں جہاں گرمجوشی اور ولولہ  انگیز خطابات  سننے کو ملتے ہیں ،  وہیں انتہائی حساس اور جذباتی ردِ عمل بھی  فوری طور پر آجاتا ہے۔ لہذا اپنے   آپ کو ہر طرح کی آوازوں کیلئے  ہمہ تن گوش رہنے کا معمول  (یعنی New Normal) بنائیے۔  بقول عباس رضوی،  

میں جو چپ تھا، ہمہ تن گوش تھی بستی ساری

اب مرے منہ میں زباں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

۲۰۱۰ کے  آس پاس، نوابشاہ میں   مسعود مستوئی صاحب نے لوکیشن ہیڈ کی پوزیشن سنبھالی۔  مسعود  صاحب  نے ایک پرائمری ٹیچر کو   کنسلٹنٹ کے طور پر اپنی ٹیم کا حصہ بنایا، جو کئی کوارٹرز تک بزنس لانے میں  کامیاب رہے۔، جس کی وجہ  مستوئی صاحب  کے بقول ماسٹر سائیں کی عام  لوگوں کی بات کو سننا،  اُن کی باڈی لینگوئیج کو کاپی کرنا اور تمام  مقامی ترجیحات اور پہلوؤں  کو  اپنی ملاقات اور گفتگو کا حصہ بنانا تھی۔  کوئی  کنسلٹنٹ ہو یا کلائنٹ ،  ، جب کوئی آپ  کے پاس کسی سوال یا تشویش کے ساتھ آئے ، تویہ  یقینی بنائیں  کہ آپ  کے پاس سننے کے دوران کوئی پریشانی  یا خلفشار نہ ہو۔  بشمول  مخاطب سے اپنے  بغض یا  موضوع پر  پہلے سے قائم اندرونی رائے  کو نظر انداز کرنے کے علاوہ اپنے موبائل فون، کمپیوٹر سے نگاہیں ہٹا کر ، مخاطب پر توجہ دینا بھی  ضروری ہوتا ہے ۔

فنِ سماعت  کی کمزوری میں نامناسب روئیے کا کردار:

جس طرح نظر ، پٹھے اور یاداشت عمر بڑھنے سے کمزور ہوسکتے ہیں  ، یقیناً ، سماعت بھی ہوتی ہے،   البتہ سننے  یا سماعت کے فن کے حوالے سے میرا پاکستانی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہمارے ہاں اکثر   پروموشن،  عہدوں اور اوقات میں  اضافے کے ساتھ 'دوسروں کی سننے' میں دِقت  پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسرے اداروں کے بڑے عہدوں  سے ایک دو درجے اوپر آنے والے افسران کی جہاں باقی تمام خوبیوں کی تصدیق  کی جاتی ہے،   کیا ہی اچھا ہوتا کہ اُن کے سابقہ  اداروں میں  اُن کے روئیوں Behavior کا بھی  پتہ کرلیا جائے!

ہم فائنینشل سروس انڈسٹری  میں اخلاق، انکساری اور ایثار پر مبنی ماحول میں   مطلق العنان   آمر سپروائزر  کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔اکژ   چھوڑ کر جانے والے اپنے سپروائزر کی    ذاتی رعونت، اننانیت اور عہدوں کا زعم اور احساس برتری  کے روئیوں کی شکایت کرتے ہیں۔    ہمارے شہری علاقوں کی نسبت   دیہی پاکستان میں  'افسران' کے ایسے روئیے  زیادہ  نمایاں ہونے کی ایک بڑی وجہ وہاں موجود دیگر سماجی کرداروں  سے مسابقت  ہوتی ہے۔ افسری  کا گھمنڈ  سرکاری محکموں  میں بھی  اچھا نہیں لگتا،  یہ کس طرح سے مالیاتی اداروں میں عوامی خدمت  پر مامور افراد  کیلئے مناسب ہوسکتا ہے؟  ایسے کردار سنتے نہیں  سنُاتے ہیں، اور وہ بھی اپنی روداد اور مطالبات۔ اپنی   کارکردگی، نتائج اور قول و فعل کا   محاسبہ تو درکنار، اپنی ٹیم  کی پیشہ وارآنہ  ضروریات  پر بھی توجہ  دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔  لہذا ایسے روئیوں کی نشاندہی خود ایسے کرداروں کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔

لیڈرز کی ذاتی الجھنیں اور  مصروفیات بھی  سُننے کو مشکل بناتی ہیں۔ کبھی کبھی لیڈر  اپنے جواب پر اتنے مرکوز ہوتے ہیں کہ وہ  مکمل طور پر نہیں سن سکتے،وہ   اپنے ذہن اور اپنی زندگیوں میں مصروف ہو سکتے ہیں، اور وقت نہیں نکالنا چاہتے۔  دوسرے اوقات سننا  اس لئے مشکل ہوتا ہے کیونکہ یا تو لیڈر کو جواب نہیں معلوم یا موضوع  اُن کے لئے حساس ہے اور وہ  اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔  لیڈرز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ٹیم ممبرز کو سنُے جانے کا موقع دیں، تاکہ وہ بلا روک ٹوک اپنے جذبات اور خیالات شیئر کرسکیں۔اگر آپ اُن  کی گفتگو کی توثیق نہیں کرتے اور شخص کو سنُنے کا موقع ہی  نہیں دیتے، تو وہ مایوس ہو جائیں گے اور اپنا  صلاحیتوں کا اظہار نہیں کریں گے ۔

فن ِ سماعت میں بہتری کے طریقے:

۱۔ پہلے سنیں، آخر میں بولیں: سپروائزر/لیڈر  کو اکثر یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ اُن کی پوزیشن کا تقاضا ہے کہ وہ  زیادہ سے زیادہ خطاب فرمائیں یعنی ہر مکالمے  کو بحث میں تبدیل کرتے ہوئے  حاضرین پر غالب رہیں۔   لیڈر کے  سب سے پہلے بیان دینے یا تبصرہ  کرنے سے پوری گفتگو کا   رنگ ڈھنگ  ہی بدل جاتا ہے، جو  خود سوال اور خود جواب کی کیفیت بنا دیتا ہے۔ لیکن جب لیڈر سننے کے لیے فراخ دلی سے وقت دیتا ہے، تو ٹیم ممبرز اپنی تشویش اور خدشات کا اظہار کرتے ہیں، جو اُن کی الجھنوں میں کمی کا موجب ہوتا ہے ۔  اچھی فنِ سماعت کا تقاضا یہ  کہ حاضرین کے بیان کا حل تلاش کرنے میں عُجلت کی بجائے، سوالات پوچھ کر  ٹیم ممبران کو درپیش صورتحال یا تشویش کو واقعی سمجھنے کی کوشش  کی جائے۔ پھر  آپ  کے بیان یا   جواب  کے،( جو ٹیم ممبران    کے پورے موقف کو   سننے کے بعد)  آنے سے   اختلافات  کم سے کم ہوجاتے ہیں۔

۲۔ معلوماتی بیان سن کر  اُس کی  تصدیق کریں: یاد کیجئے، کتنی مرتبہ کسی نے آپ سے کہا ' نہیں، میں نے یہ تو نہیں کہا تھا/آپ میری بات سمجھے نہیں/میرا یہ مطلب تھوڑی تھا!'  اس کیفیت کی وجہ سے بات کہنے والے کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ آپ کے بارے میں یہ  کہے کہ 'انھوں نے اپنی طرف سے بات کی۔۔۔'۔  یہ مسئلہ اُس وقت حساس ہوجاتا ہے، جب سننے والے پاکستان کے  بڑے شہر سے ہوں، اور سُنانے والے  دیگر علاقوں سے۔ لہجے، تلفظ، انداز گفتگو کا فرق مفہوم کو کچھ کا کچھ بناسکتا ہے۔ اس کیلئے پوری توجہ سے بات سُن کر، اُس بات کو دہرا کر یہ پوچھیئے ، 'آپ کا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ۔۔۔(آپ کو سمجھ میں آنے والی بات کا ذکر)' ۔ اس طرح سے مطلب مفہوم کی تصدیق سے  آپ اُن کا اعتماد حاصل کر سکیں گے۔  یہ ایک ایسا ضروری عمل ہے، جو اُس وقت خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے، جب آپ کو ایک ٹیم ممبر /کلائنٹ کی بات کو سننے کے بعد کسی اور کو وہ معلومات پہنچانی ہوں۔

  ۳۔  مسائل کو سُن کی ممکنہ حل کی رہنمائی کریں:   اپنی ٹیم سے ہمیں صرف معلوماتی مواد (حقائق، اعدادوشمار، ذاتی رائے، مفروضہ وغیرہ ) ہی نہیں سننے کو ملتا ہے، بلکہ بسااوقات سننے والے مواد کی نوعیت شکایات، مطالبات  اور مسائل   پر مبنی ہوتی ہے۔ اچھا لیڈر اِس نوعیت کے مواد کیلئے   مخاطب سے  گفتگو کی منظم ترتیب Organized Sequence کے تحت سوالات پوچھتا ہے۔  پہلے مسئلے کا احوال، پھر اُس کی (مخاطب کے مطابق) وجوہات/اسباب اور آخر میں  ممکنہ حل/سفارشات پر رضامندی کا حصول۔  اس اندازِ سماعت سے ایک  لیڈر اپنے مخاطب  کو اچھا فیصلہ کرنے کے لیے رہنمائی کرتا ہے۔  کسی ٹیم ممبر  کو صحیح فیصلہ کرنے کی کوچنگ دینا لیڈر کا  بڑا اہم فن ہے۔

الغرض ، جب آپ اپنے کلائینٹ یا ٹیم ممبر ،  کی بات واقعی سنتے ہیں — ان کے الفاظ، ان کے جذبات و تاثرات، ان کے خواب — تو آپ ایک ایسا طویل مدت تعلق  یا ایسی ٹیم بناتے ہیں جو نہ صرف کامیاب ہوگی  بلکہ یکجان  اور پرعزم بھی ر ہے گی۔ جب وہ  محسوس کرتے ہیں کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے، تو وہ  زیادہ وفادار رہتے ہیں، بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، اپنے علاقوں کی صورتِ حال کے مطابق زیادہ اختراعی خیالات لاتے ہیں، کلائنٹ سےمضبوط تعلقات بناتے ہیں۔  ان علاقوں میں  مذہبی عقائد  پر  گامزن ہونے کے باعث شریعہ کے مطابق مالی تحفظ کے مشن میں زیادہ سرمایہ کاری کروا سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں فیملی تکافل کی کامیابی کا راز ٹیکنالوجی، پروڈکٹس یا حکمت عملیوں میں نہیں — یہ لوگوںسے پُر اعتماد تعلق  میں ہے۔ اور لوگوں کو سمجھنے کے لیے، آپ کو پہلے ان کو سننا ہوگا۔ لہذا فننانشل ایڈوائزری / ویلتھ مینجمنٹ  سے  وابستہ لیڈروں کے لیے، سننے کی مہارت صرف ایک مہارت نہیں بلکہ کامیابی کی بنیاد ہے۔

Emotional Intelligence - صرف ہدف نہیں، دل جیتیں: فیملی تکافل لیڈرشپ میں جذباتی ذہانت کا جادو

ایک مینیجر کیلئے اپنی ٹیم  کی ناقص کارکردگی کو  بہتری کی طرف لانا ، فیملی تکافل (لائف انشورنس کے شرعی متبادل)   انڈسٹری  میں ایک بڑا چیلنج ہ...