Sunday, October 5, 2025

Managers, Please don’t Blame Company or Money for Losing Top Talent (Urdu Article)

 


جب بہترین ٹیلنٹ چھوڑ جائے تو  کمپنی اور پیسے کو الزام نہ دیں!

کیا لوگ نوکری چھوڑ تے  ہیں، یا  اپنے سپروائزر /'بوُس 'کو؟  اس سوال کو نظرانداز کرنا کسی بھی ادارے  کی افرادی قوت کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔  ملک بھر   میں فیملی تکافل کی صنعت میں باصلاحیت سیلز ایجنٹس کا روٹھ کر  جانا  تمام تکافل اداروں کیلئے مالی اور آپریشنل دونوں لحاظ سے مہنگا  سودا  ہو تا  ہے۔ اس سر درد میں نہ صرف بھرتی، آن بورڈنگ اور تربیتی اخراجات شامل ہیں، بلکہ ادارے سے وابستگی کے دوران حاصل ہونے والے عملی تجربے  کی سیکھ کا نقصان بھی ہے جو رخصت ہونے والے قابل  ایجنٹ یا مینجر  کے ساتھ چلا جاتا ہے۔  مالیاتی خدمات/ فننانشل ایڈوائزری  کے ہوشیار لیڈرز اپنے بہترین کارکنوں کو  اپنی ٹیم اور ادارے کے ساتھ برقرار رکھنے کے لیے فعال اقدامات کرتے ہیں۔

نوکریوں کی تلاش  کی  دو اہم ویب سا ئٹ'  گلاس ڈور اور لنکڈان'  کی تحقیق کے مطابق،  نوکریاں چھوڑنے والے لوگوں کے۳۴ ملین آن لائن پروفائلز کے  جائزے میں ، لوگوں کے جانے کی بنیادی وجہ اپنے سپروائزر کے ساتھ رابطے کی کمی  کو قرار دیا گیا تھا ۔ پیسہ کافی پیچھے،  (۱۶)سولہویں نمبر پر تھا۔ واضح الفاظ میں، زیادہ تر لوگ کمپنی کی وجہ سے  کام نہیں چھوڑتے؛ وہ اپنے سپروائزر  کی  ناقص رہنمائی اور مدد  کی وجہ سے کام چھوڑنے  پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

لاہور میں مقیم میرے ایک ریجنل مینیجر  ٹریننگ اینڈ  ڈیویلپمنٹ   نے بھی  ایک سروے  کیا، جس سے بہت اہم  نکات اُجاگر ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ دس میں سے سات ملازمین مالیاتی ترقی، کیرئر  کی ترقی اور کاروباری  پیش رفت کی توقعات کا اظہار کرتے  ہیں — وہ ابتدائی ایک دو ماہ  میں  فعال طور پر کہیں اور جانے کی تلاش میں نہیں ہوتے  ہیں۔ وہ دراصل یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جو وہ کر رہے ہیں، اس کا مقصد اور معنی  اُن کی شخصیت اور کام کی قدر میں   اضافے کا باعث ہو۔  دورانِ  ملازمت ایک سیلز ٹیم ممبر کا  اطمینان، عام طور پر چار چیزوں پر مبنی ہوتا  ہے: ترقی کا موقع، منصفانہ معاوضہ، ٹولز اور وسائل، اور خودمختاری۔ ملازمین کے چھوڑنے کی وجوہات پر تازہ ترین ڈیٹا لاہور یا پنجاب سمیت پورے ملک  کی دیگر برانچوں کے فیملی تکافل لیڈروں کو نئی راہِ عمل دے سکتا ہے۔

اس ایجنٹ ریٹینشن کیلئے ، کسی بھی لیڈر کا   پہلا قدم ریکروٹمنٹ کے وقت یہ نوٹ کرنا ہے کہ ریٹیل سیلز ایجنٹ یا  مینیجرز اپنے کیرئر  یا  دراصل اپنی ملازمتوں سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔ اس ریکارڈ کی بدولت ٹیم ممبران کی  کیرئر کی ترقی کے مراحل بھی  مدِ نظر رکھے جاتے ہیں بلکہ جب وہ اپنے وقتِ رخصت کا اعلان کریں تو  'رخصتی انٹرویو أ Exit Interview'  جو کہ لیڈر کے علاوہ  کسی اور سینئر  کی زیر ِ نگرانی ہو ،  اس میں یہ دیکھا جانا چاہیئے کہ جانے والے کے چھوڑنے کے پیچھے توقعات کے پورا ہونے نہ ہونے کے  علاوہ اور کون کون سے  مسائل کارفرما تھے، جن کے باعث چھوڑنے کا انتخاب کیا جار ہا ہوتا ہے۔ یہ عمل بہت سےقابل افراد  اور وسائل کے ضیاع سے بچا سکتا ہے۔

برانچ  کے مثبت ماحول  کیلئے تجاویز

مارچ  ۲۰۲۰   کے آخر میں کرونا کی وبأ کے باعث لاک ڈاؤن سے پاکستانی معیشت عالمی معیشت کی نسبت  کم متاثر ہوئی۔ البتہ  اُس وُبا کے بعد،   اداروں کے کام کے ماحول اور لوگوں  کے مزاج اور  ورک پلیس انگیجمنٹ کے روئیے  خاصے متاثر ہوئے۔  بلخصوص، نئی نسل  'جنریشن زی' کے موڈ پر خاصی بحث ہورہی ہے۔ ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس  کی آمد،  وائٹ کالر  جاب مارکیٹ پر اے-آئی کے اثرات  کو سوچتے ہوئے، مالیاتی ترقی، کیرئر  کی ترقی اور کاروباری  پیش رفت  پر خدشات نے  افرادی قوت کو   الجھنوں کا شکار کیا ہے۔  ایسے ماحول میں لیڈرز نئے ٹیلنٹ کو راغب کرنے اور نئے ملازمین کو تربیت دینے کی حکمت عملی تشکیل دینے میں کافی وقت اور دماغی طاقت خرچ کئے بغیر  کامیاب  نہیں ہوسکتے ہیں ۔  لیکن مسئلہ ہے، ایسے لیڈر کم ہیں جو پیشہ وارانہ محنت اور توانائی کو ٹیم کی کامیابی کیلئے  لگا رہے ہیں۔

ایک تعلیم و تربیت یافتہ مینجر   ہی مینجمنٹ  کے  بہت سے ٹول ، جن میں  'آن-بورڈنگ، آورینٹیشن، فیلڈ کوچنگ، پرفارمنس  مینجمنٹ، اپریزل اور کیرئر ڈیولپمنٹ ' کو بروئے کار لاتا ہے۔ ایک عام غلطی یہ ہے کہ ناتجربہ کار  کی بجائے تجربہ کارنئے لوگوں کو ملازمت پر رکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ 'نئے تجربہ کار 'ٹیم ممبر کا سیلری پیکیج ہی  سیلز ٹارگٹ پورا کروائے گا، لہذا سپروائزر  کو  ٹیم کی کامیابی کیلئے پیشہ وارانہ محنت اور توانائی  لگانے کی بجائے ،ا یک  پُرسکون ہنی مون  کا لطف  اُٹھانا  چاہیے۔  جبکہ  ایک تجربہ کار نئے ریکروٹ پر بھی  کمپنی کے وژن اور سسٹم  سے واقفیت  اور ہم آہنگی  پر اُتنی ہی پیشہ وارانہ محنت اور توانائی  لگانے کی  ضرورت ہوتی ہے، جتنی ایک ناتجربہ کار نئے فرد کیلئے  لگانا  ضروری ہو۔ 

 بصورت، دیگر   'بریانی  اور قیمے والے نان'  کی تواضع سے کامیاب ہونے والے سیاسی لیڈران سے متاثر ہ، کم علم  مالیاتی سپروائزر   بھی 'مٹن کڑھائی، سجی، اور بوفے ' کی دعوتوں کو لیڈرشپ  کا بنُیادی اور اکلوتا فرض سمجھتے ہیں۔  نوکری کا آغاز  ہو، کامیاب بزنس ٹارگٹ  ہو، یا روٹھے ہوئے کو منانا ہو ، 'دعوت کلچر ' کا  واحد ٹول برؤےکار لایا جاتا ہے۔  اس طرزِ عمل سے ماحول نہیں بنا کرتے۔  نئی نسل ، جو موبائل نیٹ پر فوڈ پانڈا کو  آرڈر دے کر  روزانہ دعوت  انجوائے کر سکتی ہو، وہ    کس طرح سے  دعوت کلچر کو  اپنی پیشہ وارانہ ترقی  کا ضامن سمجھ سکتی ہے؟

ٹیلنٹ کو مشغول اور برقرار رکھنے کا ایک ہی  طاقتور طریقہ ہے  کہ تعلیم و تربیت یافتہ مینجر ہوں، جو  مینجمنٹ  کے  ٹولز کی بدولت عملی نتائج سے  مثبت ماحول بنائیں۔  پروفیشنل ازم  ہی  کلچر کی بنیاد ہونی چاہئے، ورنہ برانچ  سسٹم میں موجود ایجنٹ اور  مینیجرز اپنے کام ، زندگی کے مقصد اور ڈھانچے پر نظر ثانی کرتے نظر  آئیں گے۔

۱۔ 'میں ' کی بجائے 'ہم '  کو فروغ دیں:  آپ یقیناً چاہتے ہیں کہ تمام ٹیم ممبرز خوش اور مطمئن محسوس کریں، لیکن کسی ایک کو لاڈپیار  کی ہر حد سے گزر کر سپورٹ کرنا، جبکہ کسی اور کے  جائز مفادات اور مطالبات کو نظرانداز یا مسترد کرنے سے 'بُوس' تباہی کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔ منصفانہ انعام و اکرام   equitable rewards کی بدولت ٹیم ورک  کی روح بیدار ہوتی ہے۔  'سب کی کامیابی، میری کامیابی' کے اصول پر گامزن سپروائزر ہر سیلز  ایجنٹ  یا مینیجر کے تعلق، قدر اور مشترکہ عزم کے احساس پر زور دے کر ربط پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

۲۔ اپنے ادارے کے ساتھ ان کے کامیاب مستقبل کا تصور کرنے میں مدد کریں: مینجمنٹ میں  آرگنائزیشن فنکشن  کا ایک  پہلو  “Span of Control” اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ہر مینیجر کی  براہ راست اپنی  افرادی قوت کو  مینیج کرنے کی ایک حد ہوتی ہے۔  اپنی برانچ میں صرف  تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلئے   پروموشن  لینے کے بعد جب  آپ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی خدمت نہیں کر  پاتے تو ورک کلچر برباد ہوجاتے ہیں ۔  لہذا  جب تک کہ آپ  اپنے ماتحت افراد کو براہ راست سپورٹ میکینزم  کے مضبوط  اور منصفانہ ہونے کا احساس نہیں دلواتے،  اُنھیں آپ کے ساتھ مستقبل  نہیں دکھتا۔  آپ کی لیڈرشپ  میں اُن کے پاس کیریئر کے کیا مواقع ہیں؟ آپ وہاں پہنچنے میں ان کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ کسی بھی لیڈر کا   کیرئر سیلنگ کا  بہترین طریقہ یہ  بتانا اور یقینی بنانا ہے کہ وہ اپنے  آنے والے ریکروٹ کے کامیاب  مستقبل  میں معاون بن سکتے ہیں۔ آپ کے سابقہ /موجودہ ٹیم ممبران  کی حقیقی رائے کہ  کس طرح  ان کے مستقبل اور کیرئر کی ترقی کو آپ کی سربراہی نے ممکن بنایا،نئے آنے والوں کو اپنے  کامیاب مستقبل کی  امید دلواتی ہے۔  

۳۔ فیملی تکافل کے مشن سے  نسبت کو اپنائیں: تکافل ایک مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم کلچر Work Ethics کا تقاضا کرتا ہے۔  پاکستان میں ۲۰۰۵ کے بعد سے تکافل کے اداروں کے قیام اور کام  سے بتدریج  یہ بنیادیں مضبوطی  کی جانب گامزن ہیں۔  اس ابتدائی دور میں  تکافل سے وابستہ مینجر اور ایجنٹ( جن کی بڑی تعداد روائیتی انشورنس کی  انڈسٹری سے  آتی جاتی رہی ہے ) انتہا پسندانہ  مزاج (ادھر ہم ، اُدھر تم)  کی دل آزاری سے گزرتے گزرتے اب معتدل مزاج روئیوں کی جانب آچکی ہے۔اب   جب کوئی  'شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی معاملات' کا  زکر کر رہا ہوتا ہے، تو  اُدھر والے بھی برا نہیں مناتے، کیونکہ وہاں بھی معاملات  'طیب'  ہونا شروع ہوئے ہیں۔  خیر، شریعت میں  برکت، اور اس مشترکہ امداد باہمی کے وقف وکالہ نظام کے اخلاقی اُصول دیگر مذاہب کے پاکستانی پیروکاروں کو بھی اس مشن سے نسبت  میں فخر کا باعث  ہیں۔ سچائی، دیانتداری پر مبنی  تکافل ٹیموں کی مالیاتی مشاورت اور عوام کو ہونے والے حقیقی فوائد سے ہم سب اہلیانِ تکافل انڈسڑی کا  کامیاب مستقبل وابستہ ہے۔


No comments:

#1 Success Formula in Rural Pakistan - Better Listening Skill. (Urdu Article)

  دیہی پاکستان میں مالیاتی اداروں کی کامیابی کا نمبر' ۱' فارمولا:   بات   خُلوص سے سُننا اگرچہ 'سننے ۔ Listening ' کی صل...